ممبئی ۲؍ جنوری (ایس او نیوز/ پریس ریلیز) ۲۱؍ فروری ۲۰۱۳ ء کو حیدرآباد کے دلسکھ نگرعلاقے میں رونما ہونے والے بم دھماکہ معاملے میں خصوصی عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا پانے والے پانچ مسلم نوجوانوں کے خلاف حیدرآباد ہائی کورٹ میں داخل عرضداشت کی سماعت کے دوران آج دو رکنی بینج نے مسلم نوجوانوں کی پھانسی کی سزا پر اپیل کی سماعت مکمل ہونے تک روک لگا دی ۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ حیدرآباد ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس سی وی ناگ ارجن ریڈی اور ایم ایس کے جیسوال پر مشتمل دو رکنی بین نے قومی تفتیشی ایجنسی NIA کی جانب سے ملزمین کو نچلی عدالت کی جانب سے ملی پھانسی کی سزا کی توثیق کے لیئے عرضداشت داخل کی تھی جس کے دوران جمعیۃ علماء کی جانب سے مقرر کیئے گئے ایڈوکیٹ آر ماددھون نے عدالت کو بتایا کہ وہ نچلی عدالت کے فیصلہ سے قطعی مطمین نہیں ہیں اور وہ نچلی عدالت کے فیصلہ کو چیلنج کریں گے۔
استغاثہ کے وکیل وشنو وردھنا ریڈی نے عدالت کو بتایا کہ NIA قانون کے مطابق نچلی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد سرکار کو فیصلہ کی توثیق کے لیئے ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کے لیئے صرف ۳۰؍ دنوں کی مہلت ہوتی ہے لہذا سرکار نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپیل دائر کردی ہے جس پر جلد از جلد سماعت عمل میں لائی جائے ۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد دو رکنی بینچ نے نچلی عدالت کے پھانسی کی سزا کے فیصلہ پر فوری روک لگای دی ۔
واضح رہے کہ دل سکھ نگر میں ہوئے دہرے بم دھماکوں میں ۱۷؍ لوگوں کی موت واقع ہوئی تھی جبکہ ۱۳۳؍ فراد شدید زخمی ہوئے تھے۔
بم دھماکوں کے بعد قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے ملزمین تحسین اختر، شیخ اعجاز، اسعد اللہ اختر، ضیاء الرحمن عرف وقاص ،احمد سدی باپا عرف یاسین بھٹکل کو گرفتارکیا تھا اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا جس کی سماعت گذشتہ ماہ عمل میں آئی تھی جس میں عدالت نے پانچوں ملزمین کو قصور وار ٹہرایا تھا اور پھانسی کی سزاء تجویز کی تھی